Uncategorized

شیخوپورہ کی تاریخ پر ایک خوبصورت تحریر


ہمارے پیارے ضلع شیخوپورہ کے متعلق ایک خوبصورت تحریر
جہانگیر کی حیثیت سے ہندوستان کا بادشاہ بننے سے پہلے ابھی جب کہ وہ محظ شہزادہ سلیم ہی تھا، تو وہ شکار کے غرض سے لاہور شہر سے کوئی دس کوس شمال مغرب کی جانب ایک گھنے جنگل میں جایا کرتا تھا۔ جب بادشاہ کا پالتو اور لاڈلا ہرن منسراج مرا تو شاہی حکم کے مطابق اس کو اسہی جنگل میں دفن کیا گیا ۔ ہرن کے مدفن پر ایک مینار بنا جو کہ آج تک ہرن مینار کے نام سے معروف ہے۔ بادشاہ نے نزدیک ہی ایک حوض بھی تعمیر کرایا اور اس کے بیچو بیچ ایک خوبصورت بارہ دری۔
اب چونکہ جہانگیر اس علاقہ میں اکثر آتا جاتا تھا تو نزدیک ایک شہر بھی آباد ہوا جس کا نام بادشاہ کی نسبت سے پہلے توجہانگیرآباد ہوا لیکن چند ہی برسوں میں شیخوپورہ ہو گیا۔ بتاتا چلوں کہ اکبر اعظم کو صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کا نام اسہی بزرگ کی نسبت سے سلیم رکھا اور پیار سے اسے شیخو پکارا۔ لیحٰذا شیخوپورہ بھی جہانگیر کے نام سے ہی ہوا۔
اپنے باپ کی طرح جہانگیر بھی جنگلی حیات کی تباہی کا بہت دلدادہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ابھی انسان کو یہ سمجھ نہ تھی کہ بیابانوں میں گھومنے والے جانوروں کی آبادی کسی طرح کم بھی ہو سکتی ہے یا یہ کہ ایک روز کچھ جنگلی حیات صفحہ حستی سے مٹ بھی سکتی ہیں۔ تزک جہانگیری کے مطالعہ سے ہمیں بخوبی پتہ پڑتا ہے کہ بادشاہ کیسے ہر شکاری مہم پر سینکڑوں کی تعدا میں ہرن وغیرہ شکار کر ڈالتا تھا۔ اور پھر کیسی کمال معصومیت سے یہ بھی لکھتا تھا کہ اس سال پہلے برسوں کی نصبت شکار کم میسر آیا۔ یہاں شیخوپورہ سے ملحق جنگل میں بھی بادشاہ نے یہی کیا۔
لاہور اور شیخوپورہ کے درمیان ایک تو دریائے راوی ہے جس کو پار کرنے کیلئے تو باقائدہ پتن ہوا کرتا تھا ۔ یہ عین اس جگہ پر تھا جہاں ہمایوں کی بارہ دری آج بھی اپنی نئی شکل میں موجود ہے۔ لیکن دونوں شہروں کے بیچ ایک ندی مزید پڑتی تھی۔ وہ تھی ڈیگ جو کہ پورا سال چلتی ندی تھی۔ اس ندی کا منبع جموں کی پہاڑیوں میں واقعہ ہے جہاں سے یہ سیالکوٹ اور گوجرانوالا کے پاس سے ہوتی ہوئی آخر کار لاہور کے جنوب میں دریائے راوی میں جا ملتی ہے۔ ساون بھادوں میں عام طور پر ڈیگ میں طغیانی بھی ہوا کرتی تھی۔ بلکہ اب جب کہ ہمارے دریا خشک ہو گئے ہیں، ڈیگ میں برسات کے موسم میں آج بھی خاصہ پانی چلتا ہے۔
یہ واقعہ ہے سنہء1620 کا کہ اکتوبر کہ مہینے میں بادشاہ جہانگیر اپنی بیگمات اور درباریوں کے ہمراہ نئے تعمیر شدہ شیخوپورہ قلعہ میں مقیم تھا۔ اس سال موسم گرما کی بارشیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ شائد اسہی لئے بادشاہ نے موسم سے فائدہ اٹھانے کی خاطر شیخوپورہ والی شکار گاہ کا رخ کیا تھا۔ بہر صورت، بارش تھوڑی دیر کو تھمی اور شاہی قافلہ لاہور کی جانب روانہ ہوا ۔ لیکن قلعے سے نکلتے ہی بارش یکبارگی ایسے برسی کہ جیسے اب نہ تھمے گی۔
شاہی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ بادشاہ کا قافلہ ڈیگ کے کنارے تین چار روز رکا رہا۔ بارش شدید، زمین دلدلی ، خیمے بھیگے ہوئے، غرضیکہ بادشاہ سلامت اور بیگمات کیلئے ایک کٹھن وقت تھا۔ آخر خدا خدا کر کہ بارش تھم ہی گئی اور شاہی قافلہ لاہور پہنچا۔
ایک بار کی یہ دقت جہانگیر کیلئے مستقبل کی تنبیہ ثابت ہوئی۔ بادشاہ نے حکم صادر فرمایا کہ ڈیگ ندی پر ایک عدد پل تعمیر ہو۔ چنانچہ دربار کے بہترین ماہرین تعمیرات کام پر معمور ہوئے اور چند یہ ہفتوں کی محنت سے انہوں نے پل کا نقشہ تیار کر لیا۔ ابھی سنہء 1621 کی موسم بہار کی بارشیں بھی نہ شروع ہوئی تھیں کہ ڈیگ پر پل بن چکا تھا۔
یہ پل آج تک ضلع شیخوپورہ کے گاؤں کوٹ پندی داس سے کوئی ایک کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب واقعہ ہے اور گاؤں کو لاہور سے شیخوپورہ جانے والی سڑ ک سے ملاتا ہے۔ عام طور پر پل استعمال کرنے والے مقامی پیدل یا بائیسکل سوار ہوتے ہیں۔ لیکن وقتاً فوقتاً اینٹوں یا ریت سے لدی ہوئی ٹریکٹر ٹرالیاں بھی آر پار ہوتی ہیں۔ بلکہ جب 1989 میں میں نے اس پل کو پہلی بار دیکھا تب اس پر سے لدے ہوئے بڑے ٹرک بھی گزر رہے تھے۔
اس بار جب میرا ساتھی اور میں پل پر پہنچے تو چند نوجوان ہم سے دوستی کرنے کو آگئے۔ میرے پوچھنے پر ایک بولا کہ اس قدر مظبوط پل تو صرف انگریز لوگ ہی بنا سکتے ہیں۔ ان تینوں لڑکوں نے مغل سلطنت کا نام تو سن رکھا تھا لیکن بادشاہ جہانگیر کے نام سے وہ ناواقف تھے۔ جب میں نے یہ کہا کہ یہ پل تو مغلوں کے دور کا ہے تو تینوں نے میری طرف ایسے دیکھا گویا میں گپ مار رہا ہوں۔ ان کے فہم میں اس قسم کی دیر پا تعمیر سوائے انگریزوں کے کسی اور کے بس کا روگ نہیں۔
جہاں تک پل کی ساخت کا تعلق ہے، تو یہ دو مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ ندی کے جنوبی کنارے کی جانب ایک قدرے چھوٹا حصہ ہے جس کے نیچے پانی کی دو عدد گزر گاہیں ہیں۔ یہ صرف شدید طغیانی میں کام آتا ہوگا۔ اس سے کوئی تیس میٹر ہٹ کر پل کا بڑا حصہ ہے جس کے نیچے چار گزر گاہیں ہیں۔ تمام گزر گاہیں قوس نما طرز کی ہیں اور پل مکمل طور پر چھوٹی اینٹ سے تعمیر شدہ ہے جو کہ مغل دور میں مروج تھی۔
تین سو نوے سالہ پرانے پل کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑ چکا ہے۔ کئی جگہوں سے انٹیں بھی بھربھرا گئی ہیں اور پل کے اوپر راستے کے ساتھ خوبصورتی کیلئے بنی برجیوں میں سے اب صرف ایک ہی بچی ہے۔ لیکن اگر ہمارے مقامی ساتھی پل کی پائیداری پر حیران تھے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی۔ وہ روزانہ اس پل پر سے بھاری بھرکم ٹریکٹر اور چھوٹی بسیں گزرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پل میں انہوں نے کبھی جھول نہیں محسوس کیا۔ نہ ہی پل کے کسی قوس میں کوئی دراڑ آئی ہے۔
ازراہ مذاق میں نے لڑکوں کو کہا کہ اگر وہ یہ نہیں مانتے کہ یہ پل انگریزوں نے نہیں بنایا تو پھر ہم یوں کرتے ہیں کہ اس پر FWO کا تختہ لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ اگر کسی نے ماضی سے تعمیرات کا کوئی اچھا سبق سیکھا ہے تو وہ اسہی محکمے نے سیکھا۔ سادہ لڑکے تھے کہ ہمارے شہری مزاح کو سمجھ نہ سکے

مزید دیکھیں

متعلقہ خبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close