280

شادیاں کیجئے جنازے نہیں !

رعایت اللّٰہ فاروقی
میرے سسرال میں سال کے آخری عشرے کے دوران تین شادیاں ہویں، تینوں شادیاں اس فیملی کی تھرڈ جنریشن میں ہویں اور تینوں “کزن میرجز” تھیں۔ ہماری گود میں کھیلے یہ بچے اب اپنے بچے کھلانے کی تیاریوں میں ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان بچوں کے نصیب اچھے کرے اور انہیں دین دنیا کی کامرانیوں سے نوازے۔ آمین

شادی جو کسی زمانے میں مسرت کا سب سے بڑا موقع ہوا کرتی تھی اب ایک عذاب کا درجہ حاصل کرچکی۔ اور یہ درجہ اسے اس لئے حاصل ہوا کہ احمقوں کے قافلے گزرچکے اب وہ نسل زمانے کی باگ ڈور سنبھال چکی جو “ترقی یافتہ، باشعور، سمجھدار” اور نہ جانے کیا کیا ہے۔ آج کے اس سمجھدار انسان نے یہ ہنر سیکھ لیا ہے کہ جب اس کے لڑکے لڑکیاں تعلیم پوری کر لیتے ہیں تو یہ انہیں کہتا ہے جا بیٹا اپنی شادی کے لئے پیسے کمانا شروع کر۔ یہ بچے بچیاں لاکھوں روپے جمع کرنے کے اس مشن پر لگ جاتے ہیں جس کی تپش ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت دن جھلسا کر رکھ دیتی ہے۔ جوانی بے قابو ہونے لگتی ہے تو ان بچوں سے سنگین غلطیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں جو انہیں سیکنڈ ہینڈ جنس بنا کر رکھ دیتی ہے۔ کئی سال کی محنت کے بعد یہ اپنی شادی کے اخراجات کما چکتے ہیں تو ان کا سمجھدار باپ ایک اونچا شملہ باندھ کر شادی کی تقریب میں ہر مبارک باد دینے والے سے کہتا پھرتا ہے۔ “شکر ہے مالک کا اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوا” اور کوئی آگے سے یہ نہیں کہتا کہ انکل جی ! کونسی ذمہ داری ؟ یہ شادی تو آپ کے بچے کی کمائی سے ہو رہی ہے اور اس شادی میں آپ کا کردار باپ کا نہیں بلکہ محض منیجر کا ہے۔ یہ سجھدار والدین بہت جلد اپنے کئے کے نتائج بھی بھگتتے ہیں۔ تیس تیس سال کی عمر میں شادیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلی جنریشن 60 سال سے اوپر کی ہوتی ہے۔ یعنی وہی کھانسنے والی عمر۔ بہت جلد بہو میاں سے کہتی ہے “جانو ! تمہارے ابا کھانستے بہت ہیں، میں سو نہیں پاتی، ان کا کمرہ تبدیل کروادو نا !” یوں بڑے میاں کو کھڈے لائن لگانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو ماشاءاللہ سے سرونٹ کوارٹر سے ہوتے ہوئے اولڈ سیٹزن ہومز تک کے مراحل پلک جھپکتے میں طے کر لیتا ہے۔

میں آپ کے سامنے اپنے خاندان بلکہ قبیلے کی شادی کی روایت رکھتا ہوں، آپ بس غور کیجئے کہ کتنی بڑی سہولت ہے یہ۔ ہمارے ہاں بچے یا بچی کی شادی مکمل طور پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔ بچے یا بچی پر اس کی شادی کے اخراجات ڈالنے کا تصور تک شرمناک ہے۔ میری شادی تیس نہیں بلکہ 20 برس کی عمر میں ہوئی۔ باقی بھائیوں کی بھی بیس سے 24 برس کی عمر میں ہوئی۔ پھر میری شادی کی خاص بات یہ رہی کہ میری تعلیم کا ابھی ایک برس باقی تھا کہ شادی ہوگئی۔ آپ سمجھدار لوگ کہتے ہیں کزن میرجز میں معذور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ میری والدہ میرے والد کی چچا زاد ہیں۔ جن سے ہم 9 بھائی پیدا ہوئے اور کوئی معذور نہیں جبکہ میری 6 بھابیاں ہماری چچازاد، خالہ زاد اور ماموں زاد ہیں۔ فیملی میں تیس کے قریب بچے ہیں اور الحمدللہ کوئی معذور نہیں۔ میرے ایک بھائی کی شادی یوں بھی ہوئی کہ والد صاحب اس کے سسرال شادی کی تاریخ لینے گئے۔ اگلوں نے کہا “حضرت ! آپ گھر جائیں آپ کی توقع سے بھی بہتر تاریخ پر شادی ہو جائے گی” والد صاحب گھر آگئے۔ دو دن بعد گھر کی بیل بجی۔ دروازہ کھولا تو وہ ہماری بھابی کا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں پکڑا کر ہمیں ہکا بکا کرچکے تھے۔ ہمارے ہاں لڑکی کی شادی 18 برس کی عمر میں ہر حال میں کردی جاتی ہے۔ 16 برس کی عمر کے بعد لڑکی والے خود منتظر رہتے ہیں کہ جلد سے جلد ان سے شادی کی تاریخ مانگ لی جائے۔ اگر کوئی فیملی شادی کی تاریخ مانگنے میں غفلت برتتی نظر آئے تو لڑکی والے خفیہ پیغام بھجوادیتے ہیں کہ اپنی امانت سنبھالنے کی تیاری پکڑو ورنہ ہم بغیر اطلاع کے آپ کے دروازے پر چھوڑ جائینگے۔ یہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ زمانہ خراب اور جوانی منہ زور ہوتی ہے۔ ہم سانحات کو رونما ہونے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ بچوں کی شادیاں انکی عمر کے سب سے بہترین ایام میں کر دیتے ہیں۔ شادی ان دھما چوکڑی محافل کا نام نہیں جو سمجھداروں نے مایوں سے لے کر بارات تک نہ جانے کس کس عنوان سے سجا رکھی ہوتی ہیں اور حالت یہ ہے کہ طلاقوں کا ریشو دن بدن نئی بلندیاں چھو رہا ہے۔ شادی ہمارے بچوں کے رشتہ ازدواج میں بندھنے کا نام ہے۔ انہیں جتنا آسان رکھیں گے خوشیاں اتنی ہی زیادہ پھوٹیں گی۔ اپنی دھماچوکڑیوں کے لئے ان بچوں کی عمر اور جذبات تباہ کرنا کہاں کی سمجھداری ہے ؟ آپ بچوں کی بروقت شادیاں شروع کیجئے طلاقوں کا ریٹ زمین سے لگ جائے گا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن طلاقوں کی سب سے اہم وجہ “سیکنڈ ہینڈ مال” ہے۔ عربی کا ایک بےمثال شعر ہے۔

وتجتنب الاسود ورود ماء
اذا کان الکلاب ولغن فیہ

ترجمہ: شیر اس گھاٹ سے پانی پینے سے پرہیز کرتے ہیں جسے کتے جھوٹا کر چکے ہوں۔

آپ بروقت شادیاں شروع تو کیجئے ! آپ کے بچے آپ کے شکر گزار رہیں گے اور طلاقیں نہیں ہونگی۔ خود آپ کھانسنے والی نہیں بلکہ تگڑی عمر میں ہونگے سو آپ کو کوئی پہلے کمرہ بدر اور پھر گھر بدر نہیں کرے گا۔ کچھ دیر کے لئے سر جھکا کر غور کیجئے آپ کو خود سمجھ آنے لگے گا کہ جسے آپ لوگ شادی سمجھتے ہیں وہ اب شادی رہی نہیں بلکہ جنازہ بن چکی ہے۔ شادیاں کیجئے جنازے نہیں ! ! !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں